31 جنوری 2026 - 20:33
مآخذ: سچ خبریں
 مسجد الاقصیٰ کی قانونی حیثیت اور شناخت بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے

مسجد الاقصیٰ کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے خبردار کیا ہے کہ صہیونی حکام مسجد الاقصیٰ کی قانونی حیثیت اور تاریخی شناخت کو تبدیل کرنے کی منظم کوششیں کر رہے ہیں، خصوصاً ماہِ رمضان سے قبل مسلمانوں پر عائد کی جانے والی نئی پابندیاں اسی منصوبے کا حصہ ہیں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، مسجد الاقصیٰ کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے خبردار کیا ہے کہ صہیونی حکام مسجد الاقصیٰ کی قانونی حیثیت اور تاریخی شناخت کو تبدیل کرنے کی منظم کوششیں کر رہے ہیں، خصوصاً ماہِ رمضان سے قبل مسلمانوں پر عائد کی جانے والی نئی پابندیاں اسی منصوبے کا حصہ ہیں۔

فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق، شیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ اسرائیلی وزیر برائے داخلی سلامتی ایتمار بن گویر کی جانب سے مسجد الاقصیٰ میں مسلمانوں کی آمد و رفت پر عائد پابندیاں موجودہ حیثیت کو بدلنے کی واضح کوشش ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات مسجد الاقصیٰ کے قائم شدہ قانونی اسٹیٹس کو براہِ راست نشانہ بنا رہے ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل بھی مسجد الاقصیٰ کے خلاف صہیونی اقدامات میں غیر معمولی اور منظم اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں جنگی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسجد کی زمانی اور مکانی تقسیم کے منصوبے کو عملی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

شیخ صبری نے کہا کہ مسجد الاقصیٰ کے صحنوں میں آبادکاروں کے حملے روزانہ کا معمول بن چکے ہیں اور یہ کارروائیاں سرکاری اور فوجی سرپرستی میں انجام دی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق اب یہ واقعات انفرادی نہیں بلکہ ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مذہبی بہانوں اور نام نہاد تہواروں کو ان یورشوں کے لیے جواز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ عالمی رائے عامہ کو گمراہ کیا جا سکے۔

خطیبِ مسجد الاقصیٰ نے زیرِ زمین کھدائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کے نیچے اور سلوان کی سمت جاری کھدائیاں مسجد کی بنیادوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے قبرستان باب الرحمہ پر قبضے کی کوششوں کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ بعض حصوں کو کنیساؤں میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

شیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ صہیونی حکومت عالمی توجہ کے جنگ کی طرف مرکوز ہونے اور انتہا پسند عناصر کی کابینہ و پارلیمنٹ میں موجودگی سے فائدہ اٹھا کر مسجد الاقصیٰ سے اسلامی حاکمیت ختم کرنے کے منصوبے کو حتمی شکل دینا چاہتی ہے۔

انہوں نے مسجد کے داخلی راستوں پر نمازیوں اور محافظوں کی گرفتاریوں کو اسی دباؤ کی پالیسی کا حصہ قرار دیا۔

بیان کے اختتام پر خطیبِ مسجد الاقصیٰ نے ان اقدامات کے سنگین نتائج سے خبردار کرتے ہوئے امتِ مسلمہ سے فوری اور مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha